23 اگست, 2020

    موت مزہ چکھائےگی آج نہیں تو کل سہی

    ایک اردو غزل از طلعت سروہا
    22 جون, 2025

    اپنے ہونٹوں پہ ترا نام

    ہمانشی بابرا کی ایک اردو غزل
    14 ستمبر, 2025

    بدن کی قید میں رہ کر تمام تر کاٹو

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    ظالم ہو میری جان پہ ناآشنا نہ ہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 مئی, 2020

    بتا کہ راہِ وفا میں کوئی سوار دیکھا

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    19 ستمبر, 2025

    میرے جیسے اس بستی میں

    دانش عزیز کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    ڈر کے حالات سے دامن کو بچانے والے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    18 فروری, 2020

    جاؤں گی اب نہ آپ کی

    منزہ سیّد کی ایک اردو غزل
    31 اکتوبر, 2025

    میرے چمن میں بہاروں کے

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
    17 مارچ, 2020

    اک بات ضروری کرنی ہے

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    29 نومبر, 2019

    تم نے جو عہد کئے تھے وہ سبھی توڑے ہیں

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    بات کو جرم ناسزا سمجھے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    23 مئی, 2020

    اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا

    احمد خیال کی اردو غزل
    14 اپریل, 2020

    کہیں سے آیا تمہارا خیال ویسے ہی

    زبیر قیصر کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button