قمر رضا شہزاد
قمر رضا شہزاد کااصل نام سید قمر رضا ہے ۔وہ یکم اکتوبر 1958ء کو کبیر والہ کے سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباؤ اجداد امام زین العابدین کے چھوٹے صاحب زادے سید حسین اصغرؓ کی اولاد میں ہیں ۔ آپ نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے 1984ء میں بطور پرائیویٹ امیدوار ایم اے اردو کاامتحان پاس کیا ۔ آپ نے ملازمت کاآغاز 1983 ء میں محکمہ زراعت خانیوال سے کیا 1989ء میں پبلک سروس کمیشن کاامتحان پاس کرنے کے بعد محکمہ لوکل گورنمنٹ میں بطور پراجیکٹ مینجر اپنے فرائض سنبھالے ۔ آپ مخدوم عالی ، دنیا پور، قادرپوراں لالہ موسیٰ میں تعینات رہے اور 30 دسمبر 2018 کو ریٹائرہوئے ۔ قمر رضا شہزاد نے شاعری کاباقاعدہ آغاز 1980ء میں کیا ۔ ان کے تین شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ۔ ’’پیاس بھرامشکیزہ ‘‘ (1992ء)’’ ہارا ہو اعشق ‘‘ (2003ء) میں اور ’’ یاد دہانی ‘‘ 2002ء میں شائع ہوا ۔
قمر رضا شہزاد کی شاعری میں آج کے انسان کی صورت حال اورکرب کو واضح محسو س کیا جاسکتا ہے
-

نفی کو قریۂ اثبات سے نکالتا ہوں
قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
-

آئنہ خانۂ گمان کو چھوڑ
قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
-

کسی چشم ہنر کی پاسبانی میں نہیں رہنا
قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
-

کسی کے عکس کو حیران کرنا چاہتا ہوں
قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
-

نہ اپنے آپ کو اس طرح در بدر رکھتے
قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
-

لہو میں تر یہ دیار بھی
قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
-

تجھ سے بچھڑوں گا ترے دھیان میں رہ جاؤں گا
قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
-

تجھے کھو کر کسی سے پیار ہونا چاہیے تھا
قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
-

ہمیشہ جیتنے والا کبھی تو ہارا بھی ہو
قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
-

کسی عشق و رزق کے جال میں نہیں آئے گا
قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
