قمر جلال آبادی
قمر جلال آبادی کا اصل نام اوم پرکاش بھنڈاری تھا۔ان کی مادری زبان پنجابی تھی۔ 1917 میں امرتسر کے ایک گاؤں ” جلال آباد میں پیدا ہوئے۔ سات سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا۔ انہوں نے اپنے تقریباً تمام فلمی گیت اردو میں لکھے جو ایک عرصے تک گونجتے رہے اور آج بھی ان کی تازگی میں کمی نہیں آئی۔ جب انھوں نے لکھنا شروع کیا تو “امر” نام کے ایک خانقاہی شاعر نے ان کو اردو شاعری توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ امر نے قمر جلال آبادی کی شاعری کو متاثر ہی نہیں کیا بلکہ امر نے ان کا تخلص “قمر” (چاند) بھی انھوں نے ہی دیا۔
-

پھر نہ کہنا ہم کو نالوں سے پریشانی ہوئی
ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
-

حدیثِ عشق یہاں معتبر نہیں رہتی
ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
-

آہ سن کے جلے ہوئے دل کی!
ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
-

جمالِ رخ پہ ٹھہرتی نہیں نظر پھر بھی
قمر جلال آبادی کی ایک اردو غزل
-

نہ آئیں وہ تو کوئی موت کا پیغام آ جائے
ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
-

ابرو تو دکھا دیجیے شمشیر سے پہلے
ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
-

تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیں
ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
-

وعدۂ وصل کے ایفا سے پشیماں ہو کر
ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
-

لے کے قاصد خبر نہیں آتا
ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
-

پھونک دیا بجلی نے گلشن
ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
-

اس میں کوئی فریب تو اے آسماں نہیں
ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
-

وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل
ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
-

حکمِ صیاد ہے تا ختم تماشائے بہار
وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل
-

باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح
وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل
