آپ کا سلاماردو غزلیاتاکرام اعظمشعر و شاعری

ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی چیخیں نکلیں

اکرام اعظم کی ایک اردو غزل

ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی چیخیں نکلیں
حوصلہ ٹوٹا تو احباب کی چیخیں نکلیں

وحشتیں ایسی المناک نتائج میں ملیں
جن کے امکان پہ اسباب کی چیخیں نکلیں

اس سے فرعون کے اخلاق نے مانگی ہے پناہ
اس سے شداد کے آداب کی چیخیں نکلیں

ڈوبنے والے نے کس عشق سے تن پیش کیا
شدت وصل سے گرداب کی چیخیں نکلیں

ایسے گفتار نے کردار کی خلعت نوچی
ماتھے لکھے ہوئے القاب کی چیخیں نکلیں

جو نہ لائی گئی اس تاب کی چیخیں نکلیں
منہ پہ پڑتے ہوئے تیزاب کی چیخیں نکلیں

لفظ ابھرے تو سماوات کے کنگرے ڈولے
اور جب ڈوبے تو محراب کی چیخیں نکلیں

اکرام اعظم

post bar salamurdu

اکرام اعظم

حافظ آباد, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button