اردو غزلیاتسعید خانشعر و شاعری

قربت کا سبب ہو بھی تو کھُل کر نہیں ملتے

سعید خان کی اردو غزل

قربت کا سبب ہو بھی تو کھُل کر نہیں ملتے
کچھ یہ بھی ستم ہے کہ ہم اکثر نہیں ملتے

بے مہریِ حالات یا قسمت کا لکھا ہے
دل جس سے بھی ملتا ہے مقدر نہیں ملتے

کچھ خانہ خرابوں کی خبر ہو تو خبر ہو
ہم ڈھونڈنے والوں کو کبھی گھر نہیں ملتے

موسم کا بُرا ہو سرِ بام شبِ ہجراں
اب یاد کے جگنو بھی منور نہیں ملتے

کچھ خواب جو خوشبو کی طرح پھیل چکے ہیں
اب مجھ کو مری ذات کے اندر نہیں ملتے

اس شہرِ خدا ساز میں مجنوں کی دعا سے
بت اتنے زیادہ ہیں کہ پتھر نہیں ملتے

سعید خان

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button