تم چاہو تو ہو سکتی ہے
کہیں بھی ایسی بات
آدھے دن پر چھا سکتی ہے
کالی گہری رات
کوئی کہیں سے آسکتا ہے
وقت کا چھوڑ کے ہاتھ
کبھی کہیں بھی بن سکتی ہے
ناممکن ہر بات
تیری جانب دیکھ رہی ہے
میری آدھی ذات
تجھ سے آگے سوچ سکوں میں
کیا میری اوقات
انت بے انت بھی سب تیرا ہے
سب تیری تخلیق
وقت سے پہلے بعد اور آگے
سب تیری توفیق
میرے لئے تو ویسا کردے
تجھے لگے جو ٹھیک
آزادی کا متلاشی ہے
وقتوں کا زندیق
سلیم فگار








