اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

کوئی مختار اور کوئی مجبور

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

کوئی مختار اور کوئی مجبور
خوب ہے تیری بزم کا دستور

غم زدوں کا نہ پوچھئے مقدور
موت بھی دور، زندگی بھی دور

ظلمت زیست کی بساط ہی کیا
مے کا اک گھونٹ اور نور ہی نور

کیا بتائیں کہ زندگی کیا ہے
ایک منزل مگر قریب نہ دور

وضعداری بھی سیکھ لے باقیؔ
یہ بھی ہے اک جہان کا دستور

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button