اردو غزلیاتاسماعیلؔ میرٹھیشعر و شاعری

کوئی دن کا آب و دانہ اور ہے

اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل

کوئی دن کا آب و دانہ اور ہے

پھر چمن اور آشیانہ اور ہے

ہاں دل بے تاب چندے انتظار

امن و راحت کا ٹھکانہ اور ہے

شمع پھیکی رات کم محفل اداس

اب مغنی کا ترانہ اور ہے

اے جوانی تو کہانی ہو گئی

ہم نہیں وہ یا زمانہ اور ہے

جس کو جان زندگانی کہہ سکیں

وہ حیات جاودانہ اور ہے

جس کو سن کر زہرۂ سنگ آب ہو

آہ وہ غمگیں فسانہ اور ہے

وا اگر سمع رضا ہو تو کہوں

ایک پند مشفقانہ اور ہے

اتفاقی ہے یہاں کا ارتباط

سب ہیں بیگانے یگانہ اور ہے

اسماعیلؔ میرٹھی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button