آپ کا سلاماردو نظمحمزہ سلمانیشعر و شاعری

گرمیاں

حافظ حمزہ سلمانی کی ایک اردو نظم

میرے وطن میں جب بھی یوں آتی ہیں گرمیاں
جون و مئی میں رنگ دکھاتی ہیں گرمیاں
روح افزا کا بھی جوس پلاتی ہیں گرمیاں
سورج کی تیز آنچ دلاتی ہیں گرمیاں

آلو بخارے ،آم ، کھٹے فالسے ہوں گے
بینگن کے ساتھ آلو کبھی ٹینڈے ہوں گے
کھانا بناتے وقت پسینے بہے ہوں گے
بریانی ، کھیر مکس کے اپنے مزے ہوں گے

دل میں خوشی کے رنگ سجاتی ہیں گرمیاں
میرے وطن میں جب بھی یوں آتی ہیں گرمیاں

بچے بھی گرمیوں کی یوں چھٹی مناتے ہیں
بچپن میں دادا دادی کہانی سناتے ہیں
سن کے کہانی کتنے برے خواب آتے ہیں
بچوں کی چیخ سے بڑے بھی جاگ جاتے ہیں

ماضی کی خوشبو دل میں جگاتی ہیں گرمیاں
میرے وطن میں جب بھی یوں آتی ہیں گرمیاں

حافظ حمزہ سلمانی

post bar salamurdu

حافظ حمزہ سلمانی

قلمی نام ۔۔ حافظ حمزہ سلمانیاصل نام ۔۔۔ حافظ محمد حمزہ ارشد پیدائش.. 2001-01-15جائے پیدائش ۔۔۔ گجرات پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button