یہی دعا ہے
آنے والے سال کا سورج
ہجر کی گہری تاریکی میں
وصل کی روشن کرنیں بھر دے
میری راتیں اُجلی کردے
یہی دعا ہے
سہمے سوکھے پیڑوں کی
ہر شاخ ہری ہو
بور پڑے اور اتنے پتے
موسم ٹہنی ٹہنی بانٹے
جن کے سبز بدن کی چھاؤں
ہر اک رنگ و نسل کو دائم
فرحت کے احساس میں رکھے
یہی دعا ہے
آنے والے سال میں
سارے انساں مل کر عہد کریں کہ
سوچوں سے سب گرد ہٹا کر
اک دوجے کا چہرہ دیکھیں
اور ہماری اگلی نسلیں
اس دھرتی پر سبزہ دیکھیں
یہی دعا ہے
نیلا امبر
جھیل کی گہری گہری آنکھیں
یوں ہی ہمیشہ چمکیلی اور نیلی رکھے
آج ہتھیلی کر کے دلوں کو
مل کر یہ ہی دعا کرو سب
ہم پر امن کا سایا ہو
سلیم فگار








