محبت ہے
جبھی تو کچھ بھی کہتے ہو
تمہاری سرد مہری کے سمندر میں پڑے
چپ چاپ سہتے ہیں
محبت ہے
جبھی تو جب اُڑاتے ہو
پرندوں کی طرح ہم لوٹ آتے ہیں
تمہاری ذات کے گنجان برگد میں
کہ جس کی کوئی ٹہنی بھی
ہماری خواہشوں کو
گھونسلہ رکھنے نہیں دیتی
محبت ہے
جبھی ہم نے تمہاری یاد کا جگنو
حسیں رُو پہلے چہروں کی ضیا میں
آج تک کھویا نہیں ہے
یہ ذرے جو چمکتے ہیں
کرن کی انگلیاں تھامے
ہمارے خواب ہیں
اور خواہشیں ہیں
محبت ہے
جبھی تو سایا دیتے ہیں تمہیں
جب دُھوپ گہری ہو
فلک سے کہرا اترے تو
شجر کی طرح ہم کو کاٹ دیتے ہو
ٹھٹھرتی صبحوں میں آخر
تمہارے ہی لیے تو
دُھوپ کی کرنیں پکڑتے ہیں
دریدہ پیلی شاخوں سے
محبت ہے
جبھی تو ہم
دیے کی طرح جلتے اور سلگتے ہیں
تمہارے ہجر کی
تاریک راتوں میں
ہماری راکھ کو بھی
گر ہواؤں میں اُڑاؤ گے
تو واپس لوٹ آئیں گے
ہمیں تو راکھ ہوکر بھی
انہی قدموں میں رہنا ہے
محبت ہے جبھی تو۔۔۔۔
سلیم فگار







