آپ کا سلاماحمد کامراناردو غزلیاتشعر و شاعری

مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں

احمد کامران کی اردو غزل

مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں

ہم سہمے ہوئے لوگ ہیں ہمت سے گریزاں

اک پل کا توقف بھی گراں بار ہے تجھ پر

اور ہم کہ تھکے ہارے مسافت سے گریزاں

اے بھولے ہوئے ہجر کہیں مل تو سہی یار

اک دوجے سے ہم دونوں ہیں مدت سے گریزاں

جا تجھ کو کوئی جسم سے آگے نہ پڑھے گا

اے مجھ سے خفا میری محبت سے گریزاں

اے زندہ بچے شخص یہ سب لے کے پلٹ جا

ہم جنگ میں ہیں مال غنیمت سے گریزاں

احمد کامران 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button