آپ کا سلاماردو غزلیاتارشاد نیازیشعر و شاعری

خشک اشجار پرندوں سے محبت کیا ہے

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

خشک اشجار پرندوں سے محبت کیا ہے
کیا خبر تجھ کو ہواؤں کی بغاوت کیا ہے

آج محصور ہوئے گھر میں زمانے والے
آج سمجھے ہیں یہ کشمیر کی حالت کیا ہے

کاش تم پوچھ سکو سانس تھمی ہے جن کی
خوف اوڑھے ہوئے جینے میں اذیت کیا ہے

یاد آئی ہے زمیں تجھ کو فنا کی تلخی
اپنے اعمال پہ تھوڑی سی ندامت , کیا ہے؟

صرف اک بار کروں خود سے ملاقات کبھی
اور میرے دلِ ناکام کی حسرت کیا ہے

آنکھ تعبیر کی الجھن سے پریشاں ہے اگر
خواب زاروں میں پنپتی ہوئی حیرت کیا ہے

یہ جو کہتے تھے کہ آ جائے قیامت ارشاد
اب خبر ان کو ہوئی اصل قیامت کیا ہے

ارشاد نیازی

post bar salamurdu

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button