اردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

کٹی ہے عمر اسی خوشنما

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

کٹی ہے عمر اسی خوشنما فریب کے ساتھ
فرازِ زیست بھی دیکھیں گے ہم نشیب کے ساتھ

تو میرے ظرف کو مالک کشادہ کردینا
کہ دل ہی تنگ نہ پڑ جائے ، تنگ جیب کے ساتھ

بگڑ گئے ہیں اچانک نگار و نقشِ حیات
بڑا ہی ظلم ہوا عکسِ دیدہ زیب کے ساتھ

یہ میٹھے لہجے کے لوگوں کے لب پہ نوحے کیوں ؟
ہوا ہے کیسا ستم ، شہرِ دلفریب کے ساتھ

حصارِ رنج و الم اب سکوں میں ہو تبدیل
مرے خدا تری نصرت رہے وسیب کے ساتھ

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button