آپ کا سلاماردو غزلیاتتجدید قیصرشعر و شاعری

اس کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو

تجدید قیصرکی ایک اردو غزل

اس کو ضد سے تو اچھا نہیں روکنا چھوڑ دو
اس کی مرضی ہے تم اس پہ یہ فیصلہ چھوڑ دو

میں نے بس اتنا پوچھا تھا کیا دیکھتے ہو بھلا
میں نے یہ کب کہا تھا مجھے دیکھنا چھوڑ دو

تم ملو گے نہیں تو میں جیتے جی مر جاؤں گی
باخدا! ایسی خوش فہمیاں پالنا چھوڑ دو

میری آنکھوں پہ پٹی بندھی ہے؟ بندھی رہنے دو
اس کے بارے میں تم بھی برا سوچنا چھوڑ دو

گیلی مٹی کی خوشبو نہیں سونے دیتی مجھے
میرے بالوں میں تم انگلیاں پھیرنا چھوڑ دو

تجدیدقیصر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button