8 اپریل, 2018

    وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میں

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    30 دسمبر, 2019

    کسی کے دل سے یا پھر دیدۂ تر سے نکلنا تھا

    ایک اردو غزل ندیم بھابھہ
    3 جنوری, 2026

    دل دیا جی دیا خفا نہ کیا

    آصف الدولہ کی ایک اردو غزل
    28 دسمبر, 2019

    ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے

    غزل از اکبر الہ آبادی
    29 نومبر, 2019

    کون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گا

    ایک غزل از نوشی گیلانی
    15 مئی, 2020

    جو وحشت ہے عقیدت بھی تو ہو سکتی ہے

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر
    19 مئی, 2024

    ہَوا چلی تھی کُچھ ایسی

    امید فاضلی کی ایک اردو غزل
    5 اپریل, 2022

    وفاؤں کے پیچھےجفاؤں کے پیچھے

    ایک اردو غزل از شازیہ طارق
    31 جولائی, 2022

    مجھے خد و خال پر مِرے حیرانی بھی نہیں

    شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    اب اس کے غم سے جو کوئی چاہے سو کھائے داغ

    میر تقی میر کی ایک غزل
    28 جون, 2020

    مت سہل سمجھو ایسے ہیں ہم کیا ورے دھرے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    15 جنوری, 2020

    قریۂ جاں میں کوئی پھُول کھِلانے آئے

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2020

    تارِ مژگاں جو یوں نم سا ہے

    ناہید ورک کی اردو غزل
    22 مئی, 2020

    اپنا کردار نبھایا ہے سمندر میں نے

    جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل
    4 جون, 2020

    کمالِ محبت زوالِ محبت

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button