21 مارچ, 2020

    خزاں کے پاؤں تلے غنچہ و ثمر سے دور

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    چشمِ تر سے پھسل نہیں سکتی

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    30 جون, 2020

    ٹک ٹھہرنے دے تجھے شوخی تو کچھ ٹھہرایئے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    3 جولائی, 2025

    جو روشن ھے

    غنی الرحمٰن انجم کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    کماں بردوش و آہن پوش رہتا ​

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    19 اپریل, 2020

    حُسن کا یہ کمال ہے سائیں

    حسیب بشر کی ایک غزل
    3 جنوری, 2026

    دل دیا جی دیا خفا نہ کیا

    آصف الدولہ کی ایک اردو غزل
    4 مارچ, 2025

    نیام زد بھی ہوا ہوں

    ماہ نور رانا کی ایک اردو غزل
    27 نومبر, 2019

    تند مے اور ایسے کمسِن کے لیے

    امیر مینائی کی اردو غزل
    13 جون, 2020

    تصویرِ شجاعت ہمہ عالم کے لیے تھے

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    24 جون, 2020

    سبق ایسا پڑھا دیا تو نے

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    26 دسمبر, 2024

    ڈھلے جب شام دل میں

    فرح گوندل کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2020

    تجھ کو اک نغمہ بنانا چاہتی ہوں

    ناہید ورک کی اردو غزل
    2 نومبر, 2019

    شب بخیر

    جون ایلیا کی ایک غزل
    3 دسمبر, 2019

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

    محسن نقوی کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button