ثمینہ راجہ
ثمینہ اس وقت شاعری کی اس منزل پر ہیں جہاں آدمی مدتوں کی صحرا نوردی کے بعد پہنچتا ہے۔ وہ نظم اور غزل دونوں میں اتنی خوب صورت شاعری کر رہی ہیں کہ آج انگلیوں پر گنے جانے والے گنتی کے شاعروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان میں خواتیں شعرا اور مرد شعرا کی تخصیص نہیں بلکہ سارے شعری طبقے میں ان کا ایک الگ مقام بن چکا ہے۔ شاعری بہت مشکل چیز بھی ہے اور بہت آسان بھی۔ آسان اس لیے کہ بے شمار شاعر ہر طرف آپ کو نظر آئیں گے۔ مگر مشکل اس وقت ہو جاتی ہے جب اتنی بڑی تعداد میں لکھنے والی مخلوق موجود ہو اور اس میں اپنا ایک الگ تشخص اور قدوقامت قائم کیا جا اور اس میں ثمینہ کو نہ صرف کامیاب بلکہ وہ ان سب سے آگے نظر آتی ہیں۔ شاعری کے علاوہ ان میں ایک اور وصف بھی ہے کہ کئ ادبی رسائل کی مدیر ہیں اور اس میں شک نہیں ان ہی کی وجہ سے ان رسالوں کا وقار بلند ہوا ہے ۔ احمد فراز
-

یروشلم
ایک اردو نظم از ثمینہ راجہ
-

چلو کشمیر چلتے ہیں
ایک اردو نظم از ثمینہ راجہ
-

ویلنٹایٔنز ڈے
ایک اردو نظم از ثمینہ راجہ
-

کیا مرے خواب مرے ساتھ ہی مر جائیں گے
ایک اردو نظم از ثمینہ راجہ
-

بارش میں پہاڑ کی ایک شام
ایک اردو نظم از ثمینہ راجہ
-

آنکھیں جو کھلیں تو
ایک اردو نظم از ثمینہ راجہ
-

آشوب
ایک اردو نظم از ثمینہ راجہ
-

وہ ستارہ ساز آنکھیں
ایک اردو نظم از ثمینہ راجہ
-

کلفت جاں سے دور دور، رنج و ملال سے جدا
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

چراغ بام تو ہو، شمع انتظار تو ہو
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

ہوائے یاد نے اتنے ستم کیے اس شب
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

فضائے شہر محبت بدلنے والی ہے
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

نیند میں کیسی نیند بھری تھی
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

دروازے پر قفل پڑا ہے
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

دور کہیں تارا ٹوٹا تھا
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

ہم کسی چشم فسوں ساز میں
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

آسماں کوئی جو تا حد نظر کھولتا ہے
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

خوشبو کے ساتھ اس کی رفاقت عجیب تھی
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

میں خود سے پوچھ رہی تھی،کہاں گئے مرے دن
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

عمر کے بعد اس طرح دید بھی ہو گی بات بھی
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
- 1
- 2