ثمینہ راجہ
ثمینہ اس وقت شاعری کی اس منزل پر ہیں جہاں آدمی مدتوں کی صحرا نوردی کے بعد پہنچتا ہے۔ وہ نظم اور غزل دونوں میں اتنی خوب صورت شاعری کر رہی ہیں کہ آج انگلیوں پر گنے جانے والے گنتی کے شاعروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان میں خواتیں شعرا اور مرد شعرا کی تخصیص نہیں بلکہ سارے شعری طبقے میں ان کا ایک الگ مقام بن چکا ہے۔ شاعری بہت مشکل چیز بھی ہے اور بہت آسان بھی۔ آسان اس لیے کہ بے شمار شاعر ہر طرف آپ کو نظر آئیں گے۔ مگر مشکل اس وقت ہو جاتی ہے جب اتنی بڑی تعداد میں لکھنے والی مخلوق موجود ہو اور اس میں اپنا ایک الگ تشخص اور قدوقامت قائم کیا جا اور اس میں ثمینہ کو نہ صرف کامیاب بلکہ وہ ان سب سے آگے نظر آتی ہیں۔ شاعری کے علاوہ ان میں ایک اور وصف بھی ہے کہ کئ ادبی رسائل کی مدیر ہیں اور اس میں شک نہیں ان ہی کی وجہ سے ان رسالوں کا وقار بلند ہوا ہے ۔ احمد فراز
-

جیسے یہ درد سے بنی ہوئی تھی
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

دشت میں اک طلسم آب کے ساتھ
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

تنہا، سر انجمن کھڑی تھی
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

نہ شوق ہے، نہ تمنا، نہ یاد ہے دل میں
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
-

میں تمہارے عکس کی آرزو میں
ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
