آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعری

کیا یہ ہی وہ پاکستان ہے

محمد یوسف برکاتی کی ایک اردو نظم

کیا یہ ہی وہ پاکستان ہے

اقبال نے خواب جو دیکھا تھا
قائد نے کی جس کی تعبیر
کئی جانوں کے نذرانے دے کر
پھر ہوگئی اس کی تعمیر

سچ سچ بتائو مجھکو یاروں
کیا یہ ہی وہ پاکستان ہے

جو آزادی کے قصے ہم نے
سنائے تھے اپنی نسلوں کو
روشن مستقبل کے خواب
دکھائے تھے اپنی نسلوں کو

سچ سچ بتائو مجھکو یاروں
کیا یہ ہی وہ پاکستان ہے

کہاں ہیں ملک سنوارنے والے
ترقی کی راہ پر لیجانے والے
رہ گئے کھوکھلے سارے دعوے
جھوٹی قسمیں جھوٹے وعدے

سچ سچ بتائو مجھکو یاروں
کیا یہ ہی وہ پاکستان ہے

اس ملک نے ہم کو کیا نہ دیا
اور ہم نے اس کو کیا دے دیا
ترقی یافتہ ممالک میں ہم نے
سب سے پیچھے کھڑا کر دیا

سچ سچ بتائو مجھکو یاروں
کیا یہ ہی وہ پاکستان ہے

وہ سرسئید اور محمد علی
کہاں ہیں اب وہ شوکت علی
یوسف جنھوں نے دی قربانی
کہاں ہیں اب وہ لیاقت علی

سچ سچ بتائو مجھکو یاروں
کیا یہ ہی وہ پاکستان ہے
سچ سچ بتائو مجھکو یاروں
کیا یہ ہی وہ پاکستان ہے

 

محمد یوسف برکاتی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button