اردو نظمشعر و شاعریمجید امجد

آج تھی میرے مقدر میں

ایک اردو نظم از مجید امجد

آج تھی میرے مقدر میں عجب ساعتِ دید
آج جب میری نگاہوں نے پکارا تجھ کو
میری ان تشنہ نگاہوں کی صدا
کوئی بھی سن نہ سکا
صرف اک تیرے ہی دل تک یہ صدا
جاگتی دنیا کے کہرام سے چپ چاپ گزر کر پہنچی
صرف اک تو نے پلٹ کر مری جانب دیکھا
مجھے تو نے، تجھے میں نے دیکھا
آج تھی میری نگاہوں کے مقدر میں عجب ساعتِ دید
کیا خبر، پھر تو پلٹ کر مری جانب کبھی دیکھے کہ نہ دیکھے، لیکن
ایک عمر اب میں یونہی اپنی طرف دیکھتے دیکھوں گا تجھے

 

مجید امجد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button