انسانی زندگی اور اس کے حصے
ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب
ہمارے فقہاء نے لکھا ہے کہ انسان کی زندگی تین حصوں پر مشتمل ہے ” بچپن ” ” جوانی ” ” بڑھاپا ” ۔اصل میں انسان کے ابتِدائی زمانے کو بچپن، آخری دَور کو بڑھاپا جبکہ اس کی درمیانی مُدت کو جوانی کہا جاتا ہے انسانی زندگی کے ان تین حصوں کر بارے میں آج ہم جاننے کی کوشش کریں گے اگر زندگی کے پہلے حصے یعنی ” بچپن ” کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بچپن میں بدن کا گوشت اور ہڈیاں مضبوطی کی طرف بڑھنے میں پہلا قدم ہوتی ہے اور آٹھ دس سال کا عرصہ چلنا، بولنا، کھانا ،پڑھنا وغیرہ سیکھنے اور کھیل کُود میں گزر جاتا ہے اور یوں ہم آگے یعنی اگلے حصے کی طرف بڑھنا شروع کردیتے ہیں انسانی زندگی کے تیسرے حصے یعنی” بڑھاپے ” کی اگر ہم بات کریں تو بڑھاپے میں بدن کمزور ہونے لگتا ہے، یوں اس کا کچھ حصّہ بیماریوں میں گزر جاتا ہے اور باقی حصّہ لڑکھڑا کرچلنے، کانپتی آواز میں بولنے، اونچا سننے، دُھندلا دیکھنے اور دوسروں کی بات سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے گزرتا ہے، بڑھاپا طویل ہو یا مختصر موت پر ختم ہوجاتا ہے جبکہ انسانی زندگی کے سب سے اہم اور دوسرے حصے کی طرف جب ہم آتے ہیں تو وہ ہے” جوانی ” اس میں بدن کی طاقت عُروج پر ہوتی ہے، اُمنگیں جوان ہوتی ہیں اورجذبے پُرجوش ہوتے ہیں۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے علماء نے جوانی گزارنے والے جوانوں کی دو اقسام بیان فرمائی ہیں جس میں ایک قسم ان نوجوانوں پر مشتمل ہے جو اپنی جوانی کی توانائی اور طاقت دنیا کے مقابلے میں آخرت کی زندگی میں کامیابی کے حصول کے لیئے جدوجہد میں خرچ کرتے ہیں یعنی فرائض و واجبات کے پابندی نیکیاں کمانے کے شوق اور گناہوں سے بچنے والے ہوتے ہیں۔ اگر کبھی نفس و شیطان کے بہکانے سے گناہوں میں مبتلا ہو بھی جائیں تو جلد ہی توبہ کرکے جنت میں لے جانے والے راستے پر چلنے لگتے ہیں علماء فرماتے ہیں کہ ایسے نوجوانوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے خاص طور پر ہمارے آج کے معاشرے میں جبکہ دوسری قسم ان نوجوانوں کی ہے جن کے نزدیک دنیا ہی سب کچھ ہے ان کے لیئے آخِرت کی آبادی یا بربادی کی کوئی پروا نہیں ہوتی، ان کے نزدیک "جوانی دیوانی اور مستانی ہوتی ہے”، چنانچہ انٹرٹینمنٹ (Entertainment)کے نام پر فلمیں ڈرامے دیکھنا، میوزک سننا، اُلٹے سیدھے کھیل کھیلنا، ناچنا گانا، عشق ومَحَبَّت کے نام پرصنفِ مخالف کو ورغلا کر عِصْمتیں برباد کرنا اور سوشل میڈیا پر طرح طرح کی گھٹیا حرکتیں کرنا ایسے نوجوانوں کا معمول ہوتا ہے! مارکُٹائی، چوری چکاری، شراب خوری، جُوابازی، بدنگاہی، بدکاری میں انہیں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی، ان کا اندازِ زندگی زبانِ حال سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ میری زندگی میری مرضی، میں جو چاہوں کھاؤں، جو چاہوں پہنوں، جو چاہوں بولوں، جو چاہوں دیکھوں، جو چاہوں سنوں، جہاں چاہوں جاؤں، جس کے پاس چاہوں بیٹھوں، جو چاہوں پڑھوں! اسی لئے وہ اپنی جوانی کی قوت و طاقت کو رب العزت کے احکامات پر عمل نہ کرنے اور اس کی نافرمانیوں میں صَرف کرتے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کے بارے میں امام اہلسنت مجدد دین و ملت حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے فرمایا تھا کہ
دن لَہْو میں کھونا تجھے، شب صبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی خوفِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
رزقِ خدا کھایا کِیا، فرمانِ حق ٹالا کِیا
شکرِ کرم ترسِ سزا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
( حدائق بخشش صفحہ 111)
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ویسے تو ہر عمر کا ذکر ہمیں قرآن و حدیث میں ملتا اور اسلام کے واقعات میں بھی بچپن ، جوانی اور بڑھاپے کا ذکر ہمیں کثرت سے ملتا ہے لیکن جتنے معاملات پر جوانی کا ذکر آیا ہے وہ شاید کچھ زیادہ ہے اور وہ اسلیئے کہ جوانی میں انسان کے جسم کی طاقت اور توانائی اپنے عروج پر ہوتی ہے اسی لیئے عقلمند انسان جوانی میں محنت ، لگن اور اپنی توانائی کا استعمال کرکے آگے بڑھنے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے اور ترمذی شریف کی ایک حدیث کے مطابق بروز محشر اللہ تعالیٰ کے روبرو جب کھڑا کیا جائے گا تو سوال ہوگا کہ بتائو تم نے
” جوانی کن کاموں میں صرف کی ” یعنی عمر کے اس حصے میں جب تم جوان تھے تو وہ جوانی کہاں کیسے اور کن کاموں میں گزاری ۔
( ترمذی حدیث 2424 )
اب بتایئے کہ اس وقت وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کے حبیب کریم ﷺ کی سنتوں پر نہیں گزاری ہوگی ان کا کیا حال ہوگا شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے سر جھکے ہوئے ہوں گے رب العزت کی ناراضگی داخل جہنم کروادے گی کیونکہ زندگی میں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی بجائے شیطان کے راستوں پر زندگی گزاری اب کیا حاصل لیکن خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ابھی سانس لے رہے ہیں اپنی زندگی گزار رہے ہیں ان لوگوں کے لیئے ابھی بھی وقت ہے عقل مندی یہی ہے کہ جنتی راستے کا انتخاب کیا جائے!ابھی زندگی باقی ہے ہوش میں آئیے اور اپنے گناہوں سے ابھی توبہ کرلیجئےخبردار !کہیں شیطان آپ کا یہ ذہن نہ بنا دے کہ ابھی عمر پڑی ہے،جوانی کے مزے لُوٹ لو بڑھاپے میں توبہ کرلینا،کیونکہ موت کسی وقت بھی آسکتی ہے، چاہے بچپن ہویا جوانی! دنیا کے کسی قبرستان کے باہر یہ نہیں لکھا ہوتا کہ یہ جگہ صرف بوڑھوں کے لئے مخصوص ہے بلکہ قبرستان ہر عمر میں وہاں پہنچنے والوں کے لیئے ایک گھر ہے جہاں رہنے کی مدت قیامت کے دن تک ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اللہ تعالیٰ کو بھی اپنے بندے کی جوانی کی عبادات زیادہ پسند ہیں اور اسی وجہ سے وہ لوگ جو جوانی میں اپنی توانائی اور طاقت کا استعمال اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہوکر کرتے ہیں انہیں اپنے قرب کی دولت سے نوازتا ہے اسی طرح اگر کوئی شخص جوانی میں شیطان کے ہاتھوں یرغمال بن کر اس کے بہکاوے میں آکر گناہوں کا عادی ہوجاتا ہے پھر اللہ تبارک وتعالیٰ کسی طرح اس کے لیئے راہ راست پر آنے کا سلسلہ بناتا ہے اور وہ جوانی میں ہی توبہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ نہ صرف اس کے گناہ معاف فرماتا ہے بلکہ اسے ایک خاص مقام بھی عطا فرماتا ہے اب دیکھیئے ایک نوجوان تھا جو اکثر ایک محفل میں جایا کرتا تھا جہاں ایک اللہ تعالیٰ کے بزرگ بیان فرمایا کرتے تھے اور ان کی عادت تھی کہ وہ اپنے بیان کے دوران اللہ تعالیٰ کا نام ” یا ستار ”
( پردہ پوشی کرنے والا) بڑے جھٹکے سے بولتے اور جب ان کے منہ سے یہ نام مبارک نکلتا تو یہ نوجوان ہلنے لگتا اور اس پر ایک وجد سی کیفیت طاری ہو جاتی۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں لوگوں نے پوچھا آخر ایسا کیوں ہے تو بزرگ نے فرمایا کہ یہ نوجوان جو خوبصورت بھی تھا اور اسمارٹ بھی لیکن اسے عورتوں کی طرح رہنا بات کرنا عورتوں والا لباس پہننا یہاں تک کہ عورتوں میں بیٹھنا زیادہ پسند تھا ایک دفعہ کسی شہزادی کی شادی کا موقع تھا تب یہ بھی عورتوں والا لباس پہن کر عورتوں کے ساتھ گھل مل کر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک شہزادی کا قیمتی ہار چوری ہوگیا فوری طور پر محل کے دروازے بند کریئے گیئے اور اعلان ہوا کہ سب کی چیکنگ ہوگی پھر ایک ایک کرکے سب کی چیکنگ ہوئی لیکن ہار نہیں ملا آخر میں صرف یہ نوجوان اور ایک عورت دو جانے بچے تھے تو اس نوجوان پر ایک ناکردہ گناہ کا خوف طاری ہوگیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے نام ” یا ستار ” کا ورد شروع کردیا بس پھر جب اس دوسری عورت کی باری آئی تو ہار اس کے پاس سے برآمد ہوا اور یہ آزاد ہوگیا اس واقعہ کے بعد اس نوجوان کو اللہ کے اس نام سے اتنا عشق ہوگیا کہ اس نے توبہ کرلی اور اب اللہ والوں کی محفلوں میں ہی اپنا وقت گزارتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نام سے عشق ہونے کا مطلب اللہ تعالیٰ سے عشق ہے اور میں نے پہلے ہی کہا کہ جب اللہ تعالٰی کسی کو اپنا محبوب بندہ بنانا چاہتا ہے تو اس کے گناہوں کو معاف کرکے اسے کوئی مقام بھی عطا کردیتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں انسانی زندگی کے تیسرے حصے یعنی بڑھاپے کی طرف ہم آتے ہیں تو پہلے لفظ بڑھاپا کے معنی سمجھ لیتے ہیں دراصل لفظ ” بڑھاپا ” ضعیفی اور ادھیڑ عمر ”
کے بعد کے وقت کو کہتے ہیں ” ۔بڑھاپا انسانی زندگی کا قدرتی اور طبعی مرحلہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مختلف جسمانی، ذہنی اور سماجی تبدیلیوں کا باعث بنتا ہے. اس میں جسمانی قوت میں کمی، یادداشت کے مسائل، اور سماجی صلاحیتوں کا متاثر ہونا شامل ہیں بڑھاپے کی بھی عموماً کچھ اقسام اور کچھ پہلو بیان کیئے جاتے ہیں جیسے ۔
طبعی بڑھاپا : جسمانی قوت میں تیزی سے کمی واقع ہوتی ہے، اور عمر بڑھنے کی وجہ سے موت سے قربت محسوس ہونے لگتی ہے.
ذہنی پہلو : بڑھاپے میں یادداشت کھونا، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، الجھن، اور خیالات کا ایک خاص سانچے میں نہ رہنا جیسی مشکلات پیش آ سکتی ہیں.
نفسیاتی پہلو : ماضی کی یادوں کا لوٹ کر آنا جس کی وجہ سے انسان جذباتی طور پر پریشان ہو سکتا ہے، بڑھاپے کا ایک اہم پہلو ہے۔
قبل از وقت بڑھاپا : یہ وہ صورت ہے جب عمر بڑھنے کی عام علامات توقع سے پہلے ظاہر ہونے لگتی ہیں، جس کی وجہ طرز زندگی یا ماحولیاتی عوامل ہو سکتے ہیں.
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ تو وہ اقسام اور پہلو تھے جو ہمارے یہاں عام طور پر نظر آتے ہیں یا انسان کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ یہ معاملات پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایک شخص بڑھاپے کی طرف آتا ہے تو اس کی زندگی میں اس کے اثرات کیا رونما ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو سب سے پہلے جسمانی قوت کا کمزور ہونا اور مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہےاسی طرح یادداشت، سوچ اور سماجی صلاحیتوں کا متاثر ہونا اور بڑھاپے میں کچھ لوگ سماجی طور پر تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اپنے سماجی دائرے کو بڑھا سکتے ہیں جناب منیر نیازی نے انسانی زندگی کے اس تیسرے حصے کے لیئے کیا خوب کہا تھا کہ
میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں بڑھاپا ایک حقیقت ہے اور اس حقیقیت کا سامان ہر اس شخص کو کرنا ہوتا ہے جو اس دنیا میں بھیجا ہوا ہوتا ہے یا اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی میں بڑھاپے کا بھی حصہ رکھا ہوا ہوتا ہےاس بڑھاپے کے بارے میں ہی ایک دلچسپ بات آپ کو بتاتا چلوں پڑھیئے ایک بوڑھا شخص ایک ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب میری نظر کمزور ہوگئی ہے روشنی مدھم پڑ گئی ہے تو ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا بزرگو یہ بڑھاپے کی وجہ سے ہے تو اس بوڑھے شخص نے کہا کہ مجھے سنائی بھی کم دیتا ہے یعنی میں بہرے پن کا شکار بھی ہوگیا ہوں تو ڈاکٹر نے بولا کہ بزرگو بڑھاپے کی وجہ سے بوڑھے شخص نے کہا کہ کمر بھی جھک سی گئی ہے تو ڈاکٹر بولا کہ بڑھاپے کی وجہ سے اب اس بوڑھے شخص کو غصہ آگیا اور غصے میں کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب کیا آپ کو میرے اندر بڑھاپے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ؟ تو ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر کہا کہ باباجی یہ غصہ بھی بڑھاپے کی وجہ سے ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں میں نے کہا نا کہ بڑھاپا بھی ایک حقیقیت ہے اور اس حقیقیت کا سامنا کر شخص کو کرنا ہوتا ہے بس فرق اتنا ہے ہم جوانی میں اپنے اعمال کے جو بیج بوتے ہیں بڑھاپے میں ہمیں اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پھل ہی کھانے کو ملتے ہیں اچھے اور نیک اعمال کا پھل میٹھا یعنی صحت و تندرستی اور عافیت والا بڑھاپا اور غلط طریقوں سے گزاری ہوئی جوانی کا پھل تلخ و کڑوا یعنی بیماری اور کمزوری میں سسک سسک کر زندگی گزارنے والا بڑھاپا ہوتا ہے اور اس وقت جوانی میں گزارے غلط کام پر پچھتاوہ ہوتا ہے کسی نے کہا کہ
ڈھل جائے گی یہ جوانی جس پہ تجھ کو ناز ہے
تو بجا لے چاہے کتنا چار دن کا ساز ہے
لیکن ہر اہل ایمان مسلمان کا یہ عقیدہ ہے اور ہونا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ بڑا غفور الرحیم ہے اگر شیطان کے بہکاوے میں آکر کوئی گناہ سرزد ہوبھی گیا ہے تو سانس کے رکنے سے پہلے پہلے ہم اس کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ کرلیں تو ہمارا آخری وقت یعنی بڑھاپا یقیناً اچھا گزجائے گا انشاء اللہ کیونکہ ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ ہر بڑھاپا برا نہیں ہوتا
انسان کا بڑھاپا آزمائشوں سے بھرپور ضرور ہوتا ہے لیکن مؤمن کابڑھاپا اسےآخرت میں فائدہ بھی دے گا ، چنانچہ نبیِّ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اسلام میں بوڑھا ہوا ، یہ بڑھاپا اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا۔ یعنی ایمان کے ساتھ بڑھاپے میں دنیا سے رخصت ہوا تو اس کے لیئے یہ ہی بڑھاپا بروز محشر ایک نور ہوگا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں زندگی کے عطا کیئے ہوئے تمام حصوں کو جس میں خاص طور پر جوانی کا ذکر آتا ہے ہمیں صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کے حبیب کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کے مطابق گزارنے چاہیئے کہ اسی میں دنیا اور آخرت کی کامیابی کے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ رب العزت ہمیں صرف اپنے راستوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور زندگی کے آخری سانس تک شیطان کی چالوں سے بچائے رکھے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص خاص یاد رکھیئے گا اور ہمیشہ یاد رکھیئے گا کہ بقول شاعر
آئے ٹھرے اور روانہ ہوگئے
زندگی کیا ہے سفر کی بات ہے
محمد یوسف میاں برکاتی






