آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہین فصیح ربانیشعر و شاعری

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

شاہین فصیح ربانی کی ایک اردو غزل

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا
اور اے شعر! اثر تھوڑا سا

عشق انعام ہوا ہے اس کو
سو ہے مغرور بشر تھوڑا سا

چھوڑ جاتا وہ مجھے ساحل پر
مہرباں ہوتا بھنور تھوڑا سا

کوئی احسان نہ کر اے دنیا
مجھ پہ احسان یہ کر تھوڑا سا

منزلیں زیرِ قدم آ جاتیں
ساتھ دیتا وہ اگر تھوڑا سا

آندھیاں توڑ نہ پاتیں اس کو
جھک گیا ہوتا شجر تھوڑا سا

مشورہ نیند کا ہے آخرِ شب
دیکھ لے خواب نگر تھوڑا سا

زندگی رہ گئی تھوڑی سی فصیح
وقت دے بارِ دگر تھوڑا سا

شاہین فصیح ربانی

post bar salamurdu

شاہین فصیح ربانی

اصل نام شعیب ربانی - قلمی نام شاہین فصیحؔ ربانی - تاریخ پیدائش 13۔ اپریل 1965ء - جائے پیدائش: دینہ - تعلیم: ایم اے اردو، کراچی یونیورسٹی - شعری مجموعے - کوئی خواب ہمارا ہو (اردو پنجابی ماہیے) 2002ء - اگلے پَل کی طرف (غزلیات) 2006ء -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button