آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہین فصیح ربانیشعر و شاعری
وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا
شاہین فصیح ربانی کی ایک اردو غزل
وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا
اور اے شعر! اثر تھوڑا سا
عشق انعام ہوا ہے اس کو
سو ہے مغرور بشر تھوڑا سا
چھوڑ جاتا وہ مجھے ساحل پر
مہرباں ہوتا بھنور تھوڑا سا
کوئی احسان نہ کر اے دنیا
مجھ پہ احسان یہ کر تھوڑا سا
منزلیں زیرِ قدم آ جاتیں
ساتھ دیتا وہ اگر تھوڑا سا
آندھیاں توڑ نہ پاتیں اس کو
جھک گیا ہوتا شجر تھوڑا سا
مشورہ نیند کا ہے آخرِ شب
دیکھ لے خواب نگر تھوڑا سا
زندگی رہ گئی تھوڑی سی فصیح
وقت دے بارِ دگر تھوڑا سا
شاہین فصیح ربانی








