آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحمد عمیر سالک
اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے
محمد عمیر سالک کی ایک اردو غزل
اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے
کسی کے ہجر کی رنگت دکھائی دیتی ہے
اُسے صدا نہیں دیتا کہ لطفِ حاصل سے
جمالِ یار میں خفت دکھائی دیتی ہے
وہ اپنے عیب بھی آئینے پر ہی دھر آیا
کمال اس شخص میں جرأت دکھائی دیتی ہے
بنا تو لوں اسے دل کا مکیں، مگر مجھ کو
پسِ وصال بھی ہجرت دکھائی دیتی ہے.
وہ مجھ سے ملنے مرے گھر پہ آگیا تھا کل
سو میرے زخم میں جدت دکھائی دیتی ہے
یہ میرے سوزِ دروں کی ہی عطا ہے سالک
سخنوری میں جو برکت دکھائی دیتی ہے
محمد عمیر سالک








