آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعُظمی جَون

کیوں پوچھتے ہو کِس کا زمانا ہے

ایک اردو غزل از عُظمی جٙون

کیوں پوچھتے ہو کِس کا زمانہ ہے، چُپ رہو
کٹھ پتلیوں کا روز تماشا ہے، چُپ رہو

دریا کی موج موج ہے مستی بھری ہوئی
قلزم کی خامشی کا تقاضا ہے چُپ رہو

آئین کہہ رہا ہے کہ اپنے حقوق لو
منصف نے فیصلے میں یہ لکھا ہے، چُپ رہو

سمجھا رہے ہیں مجھ کو سبھی اپنے غیر بھی
حالاتِ حاضرہ کا تقاضا ہے چُپ رہو

سب کے لبوں پہ چُپ کے ہیں تالے پڑے ہوئے
اس جبر کے نقیب کا کہنا ہے چُپ رہو

طفل و جوان و پیر کو اٹھنا پڑے گا اب
فرمانِ شاہِ وقت کا مُژدہ ہے چُپ رہو

ایوب کے، ضیا کے، مشرف کے بعد اب
جمہوریت کے نام کا پردہ ہے چُپ رہو

پابندیاں لگی ہیں جو اظہارِ رائے پر
حکمِ امیرِ شہرِ *زلیخا* ہے، چپ رہو

عُظمی جٙون

post bar salamurdu

عُظمی جَون

عُظمی جَون- سِبّی : بلوچستان-دو شعری مجموعوں کے خالق :*خِزاں کی رُت سُنہری ہے**ستارے میرے آنسو ہیں*- پروفیسر/پرنسپل (ریٹائرڈ)- مقامی، صوبائی، ملکی اور عالمی مشاعروں میں شرکت۔ لاتعداد ایوارڈ و اسناد یافتہ۔ *فن اور شخصیت*- *خِزاں کی رُت سُنہری ہے کا فنی جائزہ* - *"خِزاں کی رُت سُنہری ہے" کا تنقیدی جائزہ*- *عُظمی جَون کی شاعری میں روایت و جدیدیت کا تقابلی جائزہ* جیسے عنوانات کے تحت BS, ایم ایس اور M.Phil کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات۔ Face Book, YouTube، Instagram جیسے سوشل میڈیا پر Uzmee Jaon کے نام سے چینل اور پیجز۔ریختہ اور گوگل پر مواد موجود۔آذربائیجان میں عارضی رہائش۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button