- Advertisement -

سود یاد آیا، زیاں یاد آیا

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

سود یاد آیا، زیاں یاد آیا
پھر جہان گزراں یاد آیا

ہوش آنے لگا دیوانے کو
عقل کا سنگ گراں یاد آیا

جرس غم نے پکارا ہم کو
کاروان دل و جاں یاد آیا

اک نہ اک زخم رہا پیش نظر
تم نہ یاد آئے جہاں یاد آیا

نیند چبھنے لگی بند آنکھوں میں
جب چراغوں کا دھواں یاد آیا

کوئی ہنگامۂ روز و شب میں
یاد آ کر بھی کہاں یاد آیا

دیکھ کر صورت منزل باقیؔ
دعویٔ ہمسفراں یاد آیا

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل