سائٹ کا نقشہ
- حُسن کب عشق کا ممنونِ وفا ہوتا ہے
- جا ترس آ ہی گیا حشر میں لاچار مجھے
- پھر کہو گے تم مقابل کی سزا کے واسطے
- اُن پہ ظاہر مرے ارماں کسی عنواں ہوتے
- اس کو جانے دے اگر جاتا ہے
- وہاں ملو گے یہ مانا جو تم یہاں نہ ملے
- میں کھیتوں میں کھیرے کی بیلوں پہ
- ان لوگوں میں رہنے سے ہم ، بے گھر اچھے تھے
- ہو گئے ان سے ترک پیام
- قسمت کے کب جاگے درباں
- یاد رکھ دیدۂ تر اشک جو نکلا کوئی
- دنیائے وفا نام سے آباد رہے گی
- تربت کہاں لوحِ سرِ تربت بھی نہیں ہے
- عداوتوں میں جو خلقِ خدا لگی ہوئی ہے
