سائٹ کا نقشہ
- جہاں سے بھی آئے
- لے کے قاصد خبر نہیں آتا
- وعدۂ وصل کے ایفا سے پشیماں ہو کر
- تجھے کیا ناصحا احباب خود سمجھائے جاتے ہیں
- ابرو تو دکھا دیجیے شمشیر سے پہلے
- نہ آئیں وہ تو کوئی موت کا پیغام آ جائے
- جمالِ رخ پہ ٹھہرتی نہیں نظر پھر بھی
- آہ سن کے جلے ہوئے دل کی!
- حدیثِ عشق یہاں معتبر نہیں رہتی
- پھر نہ کہنا ہم کو نالوں سے پریشانی ہوئی
- یہ بھی نہیں کہ دستِ دعا تک نہیں گیا
- ختم شب قصہ مختصر نہ ہوئی
- ٍشامیانوں کی وضاحت تو نہیں
- مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا
