سائٹ کا نقشہ
- مرے سوزِ دل کے جلوے یہ مکاں مکاں اجالے
- آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے
- زخمِ دل پر بہار دیکھا ہے
- چراغِ طور جلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
- اے تغیر زمانہ یہ عجیب دل لگی ہے
- وقت کی عمر کیا بڑی ہو گی
- یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا
- جام ٹکراؤ! وقت نازک ہے
- محبت کے مزاروں تک چلیں گے
- کوئی نالہ یہاں رسا نہ ہوا
- صراحی جام سے ٹکرائیے ، برسات کے دن ہیں
- اگر بزم ِ انساں میں عورت نہ ہوتی
- زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ
- برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے
