سائٹ کا نقشہ
- یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے
- روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام
- چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
- نظر پھر نہ کی اس پہ دل جس کا چھینا
- پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو
- چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی
- رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہے
- بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
- نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے
- کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے
- وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز
- خوبرویوں سے یاریاں نہ گئیں
- بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا
- مستی کے پھر آ گئے زمانے
