سائٹ کا نقشہ
- ہر شے ہے پر ملال بڑی تیز دھوپ ہے
- صبح کو رات میں داخل بھی وہی کرتا ہے
- رختِ سفر ہے اِس میں قرینہ بھی چاہیے
- رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
- بھُولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے
- دُکھ درد کی سوغات ہے دُنیا تیری کیا ہے
- مری ماں نے مجھ کو الف ِ بے سکھائی
- میرے چمن میں بہاروں کے پھُول مہکیں گے
- جب سے دیکھا پَری جمالوں کو
- میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا
- حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے
- ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں
- یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
- عداوتوں میں جو خلقِ خدا
