سائٹ کا نقشہ
- گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے
- جہاں سے بھی آئے
- کہاں بچ کے جائیں ٹھکانہ کہاں ہے
- یہ کہہ کر دیے میری قسمت میں نالے
- کرتے بھی کیا حضور نہ جب اپنے گھر ملے
- وہ آغازِ محبت کا زمانہ
- دریا دلی کہوں تری کیا ساقیا کہ بس
- بجز تمہارے کسی سے کوئی سوال نہیں
- گلشن کا اعتبار نہیں اس زمانے میں
- کچھ خاک چند خارِ مغیلاں لئے ہوئے
- کہیں فریاد بھی محتاجِ اثر ہوتی ہے
- رحمت ہے جو کچھ
- ہے ایک سیلِ ندامت
- گزر چلی ہے شبِ دل فگار
