سائٹ کا نقشہ
- کوئی فکر لو نہیں دے رہی
- بیعت کی صدی لمحۂ انکار سے کم ہے
- کیسی دو رنگ ہے یہ شناسائی میرے ساتھ
- سوگیا تھک کے چراغوں کو جگانے والا
- ہے ایک سیلِ ندامت اس آبگینے میں
- تصورات کو تجسیمِ صوت و نور کیا
- زنجیر جب پگھلتی ہے سینے کی ہوک سے
- یہ رہا تیرا تخت و تاج میاں
- وہ روشنی ہے سو اس کا حوالہ ایک نہیں
- ایک مخلوق نے اس کی تخلیق کی
- نہروں میں وہی آبِ خنک جاری کروں گا
- اپنا سمجھیں ، نہ پرایا سمجھیں
- جو دل قریب ہو پہلے نشانہ بنتا ہے
- اس خامشی میں مجھ کو کسی نے پکارا کیا
