سائٹ کا نقشہ
- جیسے راکھ دمک اٹھتی ہے ، جیسے غبار چمکتا ہے
- حجرے شکستہ دل ،در و دیوار دم بخود
- پھر مجھ کو خامشی میں کسی نے پکارا کیا
- یہ کیسا ابر دل پر چھا گیا ہے
- قدیم وقت بھی رہتا ہے نوجواں کی طرح
- دونوں آنکھوں کی اک اوک بنائی میں نے
- لوگ چپ چاپ رواں ہیں ہر سمت
- کبھی کبھی مری آنکھوں میں خواب کھلتا ہے
- محبوب کے بھی حبیب ہو جاؤ
- دل کسی طرح بھی اس بات پہ تیار نہیں
- وہ دن گزر گئے ، وہ کیفیت گزرتی نہیں
- ابر ملبوسِ آب تھا جیسے
- وہ مدتوں کے بعد سرِ راہ مل گیا
- بھینس
