سائٹ کا نقشہ
- آئینے کے جب منظر افتاد میں ڈھلتے ہیں
- آئے گی نور کی بارات سفر کرتی ہوئی
- یاد تیری مرے تن من میں اترآتی ہے
- قصّے کہانیوں میں چھپایا گیا مجھے
- آنکھ سے گرتے ہوئے اشک کا شک اُٹھتا ہے
- رنج درپردہ خیالات کا حاصل ہی نہ ہو
- خواب در خواب مرے خواب میں شامل ہوئی ہے
- یہ اُداسی سدا بحال رہے
- ہوا ہوں نیند سے بیدار حیرانی اٹھا کر میں
- فلک کو چھونے کی حسرت میں بٹ گئے ہم لوگ
- ہمیں جزیرہ ء امکان تک پہنچنا ہے
- میں اپنی خاک گراتا رھا سمندر میں
- آنکھوں میں مری پہلی سی بینائی نہیں ہے
- سر ہمارے یہ جو مقتل کے حوالے ہوئےہیں
