سائٹ کا نقشہ
- دل پہ جب درد کی افتاد پڑی ہوتی ہے
- گردش جام نہیں ، گردش ایام تو ھے
- عام ھے کوچہ و بازار میں سرکار کی بات
- غم حیات میں کوئی کمی نہیں آئی
- لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
- ہم تو چلتے ہیں لو خدا حافظ
- جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
- کسی کو ہم نے یاں اپنا نہ پایا
- طویل راتوں کی خامشی میں
- بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں
- ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں
- زندگی سے ڈرتے ہو؟
- کبھی بن سنور کے جو آگئے تو بہار حسن دکھا گئے
- جانِ عالم ہو، کوئی کیونکر جُدا رکھّے تمھیں
