سائٹ کا نقشہ
- سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں
- اگر یقیں نہیں آتا تو آزمائے مجھے
- ہے عجیب شہر کی زندگی
- یونہی بے سبب نہ پھرا کرو
- راکھ اڑتی ہے اب ہلالوں پر
- آگ لہرا کے چل رہے ہو اِسے آنچل کر دو
- تری تلاش میں نکلے ہوؤں کا حصّہ ہیں
- تم نے جو عہد کئے تھے وہ سبھی توڑے ہیں
- کیا بیابان، کیا نگر جاؤ
- ذہن میرا جِلا کے رُخ پر ہے
- مبادا اُس گلی میں جاؤں تو للکار دے کوئی
- وہ لب میری نظر کے سامنے ہے
- نہ سہ سکوں گا غمِ ذات گو اکیلا میں
- مری حیات ہے بس رات کے اندھیرے تک
