سائٹ کا نقشہ
- وہ فراق اور وہ وصال کہاں
- ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- نُصرَتُ المُلک بَہادُر ! مُجھے بتلا ،کہ مُجھے
- دیوانگی سے دَوش پہ زنّار بھی نہیں
- درد سے میرے ہے تجھ کو بیقراری ہاے ہاے
- نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی
- یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
- ملتی ہے خُوئے یار سے نار التہاب میں
- ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
- منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی
- بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے
- میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی
- وارستہ اس سے ہیں کہ محبّت ہی کیوں نہ ہو
- کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
