ہمیں خوش رہنے دینا چاہیئے ان لوگوں کو
جو ہم سے محبت نہ کر سکے اور
بُھول جانا چاہیئے انہیں
جن سے ہمیں محبت ہے
زندگی فقط ایک زاویے کا نام نہیں
جس میں مستقیم تلاشتے ہم مثلثیں گنوا آئے اور
اپنے مدار سے نکل گئے
ہمیں معاف کر دینا چاہیئے ان دوستوں ان پیاروں کو
ہم جن کے لئے کبھی ستون کبھی چھت بنے
ہمیں ان سب سے بھی معافی مانگ لینی چاہیئے
جو ہمارے لیے تنکے ثابت ہوئے
کسی بھی تعلق میں اوزان کا مشاہدہ
گناہ کبیرہ بن سکتا ہے
اور ہر گناہ کبیرہ کی سزا موت یا عمر قید نہیں ہوا کرتی
ہمیں نکل جانا چاہیئے
متاعِ حیات چھن جانے کے خوف سے
اور آزاد کر دینا چاہیئے
ان خواہشوں کو جو ہمارے لئے پنجرے بناتی ہیں
آسمان زمین سے جہاں جا کر ملتا ہے
کوئی دیکھ آئے تو ہم بھی
نئے خواب بُن لیں گے
ہمیں ہرگز نہیں یاد رکھنی چاہیئے گنتی
جب اپنی نارسائیوں کا سوچیں
اور دھیان میں رکھنا چاہیئے
وہ ایک دکھ
جس کا نام ابھی ہم
طے نہیں کر پائے !
مومنہ وحید








