اردو غزلیاتشعر و شاعریقمر جلال آبادی

باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح

وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل

باغ عالم میں رہے شادی و ماتم کی طرح

پھول کی طرح ہنسے رو دیئے شبنم کی طرح

شکوہ کرتے ہو خوشی تم سے منائی نہ گئی

ہم سے غم بھی تو منایا نہ گیا غم کی طرح

روز محفل سے اٹھاتے ہو تو دل دکھتا ہے

اب نکلواؤ تو پھر حضرتِ آدم کی طرح

لاکھ ہم رند سہی حضرتِ واعظ لیکن

آج تک ہم نے نہ پی قبلۂ عالم کی طرح

تیرے اندازۂ جرأت کے نثار اے قاتل

خون زخموں پہ نظر آتا ہے مرہم کی طرح

خوف دل سے نہ گیا صبح کے ہونے کا قمرؔ

وصل کی رات گزاری ہے شب غم کی طرح

قمر جلال آبادی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button