آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزسیمیں کرن

فیاض جنگل۔ نہر کنارے کے راج ہنس

ایک اردو تحریر از سیمیں کرن

جنگل ایک پرشکوہ بظاہر پرسکون جنگل جہاں پرندے بے خوف ہوا میں تیرتے ہیں خوشی اور سرشاری سے کوکتے ہیں گھنی چھاؤں، درختوں کی چھوڑی آکسیجن سے بھری تازہ شدھ ہوا، نہر کا پرسکون کنارا۔ یہ سب مجھے بے چین کرتے تھے۔ تلاطم میں مبتلا کرتے تھے، میرے اندر بستا جنگل بے قرار تھا کہ جنگل جنگل ہو جائے! جی جب سے میں نے ڈاکٹر شہزاد بسرا سے ان کے بسائے جنگل کی بابت سنا تھا، امین پور بنگلہ نہر کنارے بسایا ہوا، اٹھارہ کلومیٹر پہ محیط جنگل جسے ڈاکٹر شہزاد بسرا کی تحریک اور انتھک محنت و جنون نے تین سال میں ایک بیابان سے ایک پر رونق اور پراسرار گھنے جنگل میں بدل دیا ہے، اس کار خیر کو انجام دینے کو جو محنت جنون اور خیال کی تحریک درکار تھی وہ ڈاکٹر بسرا نے فراہم کی، جنگل جس کے سائے میں بہت سی مخلوق آرام کرتی ہے، رزق تلاش کرتی ہے، تب سے میں موقع کی تلاش میں تھی کہ کب موقع ملے اور میری نظر کو عین الیقین کی گواہی ملے، سو ڈاکٹر بسرا سے رابطہ کیا گیا اور ہم دو گاڑیوں میں سوار اس جنگل کی جانب چل نکلے۔

یہ جنگل میری توقع اور حیرت سے بڑا تھا۔ تین سال کی مختصر مدت اور وہاں جیسے عشروں کی بیابانی مقیم تھی، درخت اتنے بلند ہو گئے تھے اور ایسی گھنی چھاؤں کرتے تھے کہ سورج کو مکمل ڈھانپتے تھے، نہر سوکھی پڑی تھی، پتہ چلا دریائی سلٹ نے اسے بلاک کر دیا ہے اور سیلاب کے ہنگاموں میں صفائی کا وقت نہیں ملا، وہیں ڈاکٹر قمر بخاری جو کہ ڈاکٹر شہزاد بسرا کے گویا ہمزاد ہیں نے مجھے مخاطب کیا میڈم وہ دیکھیے ہنس نہر پہ تیرتے اڑتے پھر رہے ہیں ان کے لیے ہی عباس تابش نے کہا تھا:

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ڈاکٹر شہزاد اور ڈاکٹر قمر بخاری کی جوڑی بھی راج ہنسوں کی جوڑی ہے، یہ جہاں اکٹھے ہوں محفل کو گل و گلزار کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ پپہیے کی کوکیں، پرندوں کی پرمسرت آوازیں، پروں کی سرسراہٹ، پتوں کے رقص کی آوازیں۔ فطرت پوری طرح فیاض ملی مجھے یہاں، دل میں وہی نہاں خواہش انگڑائی لینے لگی، یہاں اس جنگل میں نہر کنارے کرسی بچھاؤں دھیمے سروں میں کوئی غزل گنگناتی رہوں اور کتاب ہو فائل ہو اور میری تنہائی۔ جو کہ فی الحال یہاں میسر نہیں ہے مگر سائے بتا رہے ہیں کہ مراقبہ کرنے کو، رونے کو، تنہا آنسو بہانے کو، کھل کر قہقہے لگانے کو۔ حتی کہ بیگم کے ستائے شوہر حضرات کے لیے غم مٹانے کو بھی یہ جگہ مثالی ہے۔ ڈاکٹر شہزاد بسرا ہماری خوشی دیکھ کر کہنے لگے ”کیوں میم یہ جگہ پکنک کے لیے آئیڈیل نہیں ہے کیا یہاں لوگوں کو آنا نہیں چاہیے“ ، میں نے فوراً انکار میں سر ہلایا نہیں ڈاکٹر صاحب لوگ آئے تو اس خوبصورت ماحول کو تباہ کر دیں گے وہ یہاں آ کر بے تحاشا کھائیں گے، کھانے کے بعد پھر باتھ روم کی تلاش ہوگی وہ ندارد تو پھر جنگل مختلف بدبووں کی آماجگاہ بن جائے گا، ساتھ آئے بچہ لوگ پیمپر میں فارغ ہولیں گے اور جاتے ہوئے پیمپر یہاں چھوڑ دیے جائیں گے۔ ویسے ہم کیا کچھ کھائے پئے بغیر صرف ماحول اور فطرت کے ساتھ کچھ دیر چل کر زندگی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، یہ سوال خود سے پوچھئے گا گر جواب اثبات میں ملے تو پھر یہ جگہ آپ کے لیے ہی ہے۔

وہ عربی کہاوت ہے کہ سنی ہوئی بات دیکھی ہوئی چیز کے برابر نہیں ہو سکتی اس کو صادق پایا میں نے، پہلے اس جنگل کو ویڈیو یعنی عالم مثال میں دیکھا تھا اور اب یہ روح و جاں پہ بیتا تجربہ تھا۔ میں، بچہ لوگ، ڈاکٹر بسرا کا شاگرد جو جگہ جگہ ان کے لیکچر کی عکس بندی کر رہا تھا، ڈاکٹر قمر بخاری بھی مسلسل پھلجھڑیاں چھوڑ رہے تھے ”او پاکستانیو! ذرا غور کرو اپنے جنگل دیکھو انھاں نوں بچاؤ، ایکو سسٹم ویکھو اکو سسٹم نہ چلاؤ“ ۔ کبڈی کھیلتے بچے اور ان کا کوچ ہم سے گھل مل گئے، دیہاتی زندگی نے اپنے کچھ رنگ ہمیں دکھلائے، بھینسوں کے ریوڑ، گوبر چارے سے لدی بیل گاڑیاں۔ تنگ ٹوٹی ہوئی سڑک اور جنگل کی خاموشی!

اسی جنگل میں وہ حصہ بھی ہمیں دکھایا گیا جہاں شہتوت کے درخت لگائے گئے تھے اور اس کو اگانے، سکھانے اور اس کی تجارت کرنے کے لیے اردگرد کے دیہات کو باقاعدہ تربیت دی گئی۔ میرے استفسار پہ کہ اس کی دیکھ بھال دیکھ ریکھ کون کرتا ہے انہوں نے بتایا کہ ”بیس فیصد پودے میں نے لگائے ہیں اور اسی فیصد شجر کاری محکمہ جنگلات نے کی ہے اور وہی اس کی دیکھ بھال کرتا ہے“ ۔ میں نے رشک سے سوچا کہ یہ کیسی سعادت ڈاکٹر بسرا کے حصے آئی ہے کتنی بڑی نیکی اور کیسا بڑا کام ہے یہ شخص یقیناً اس قابل ہے کہ اس کو ملکی سطح پہ سراہا جائے۔

وہیں قریب ہی ڈاکٹر شہزاد بسرا کا ”ورثہ“ فارم تھا جہاں انہوں نے انواع و اقسام کے درخت، پودے لگا رکھے ہیں وہیں ہمیں مورنگا اور کینوا کے کھیت بھی دکھائے گئے، جی ہاں وہی ”بدنام زمانہ“ مورنگا اور کینوا۔ ان دونوں کا نام سنتے ہی ذہن پہ پہلی تصویر ڈاکٹر شہزاد بسرا کی ابھرتی ہے۔

وہیں ہم نے شجر کاری میں اپنا حصہ ڈالا اور جب میں نے احتجاج کیا کہ ہم یہ پودے خرید کر اپنی جیب سے اس کار خیر میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے شائستگی سے انکار کر دیا میم آپ کا آنا ہی بہت اہم ہے۔

ذہن میں تھا کہ ورثہ فارمز کے وئیر ہاؤس سے ہم کچھ خریداری کریں گے مگر ڈاکٹر بسرا اس معاملے میں بہت محتاط ملے شاید ہماری قوم کی الزام پسندی کے باعث! میرے استفسار پہ بس یہی بتایا کہ بس سادہ سا دو کمروں کا وئیر ہاؤس ہے!

واپسی پہ جنگل کی مہک پرندوں کے پروں کی سرسراہٹ، پپہیے کی کوک، تازہ ہوا سے سے کھل کر سانس لیتے پھیپھیڑے، ڈوبتے سورج کی کرنیں، اندھیرے میں چمکتے اڑتے جگنو اور ڈاکٹر بسرا کے فارم کے پپیتے ساتھ گاڑی میں سفر کرتے تھے۔ جنگل ہمیشہ کی طرح بہت فیاض ملا۔

سیمیں کرن

post bar salamurdu

سیمیں کرن

تعارف ۔۔اصل نام سمیرہ کرن ۔قلمی نام سیمیں کرن ،تعلیم ایم اے ایل ایل بی ۔۔چار افسانوی مجموعے شجر ممنوعہ کے تین پتے ،بات کہی نہیں گئی،مربعوں کی دائرہ کہانی ،سوئی ہوئی لڑکی ، دو ناول ۔خوشبو ہے تو بکھر جائے گی اک معدوم کہانی ۔۔تیسرا ناول زیر طبع ۔۔ کالمز کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ستر- اسی تجزیاتی مضامین ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button