ڈیجیٹل معیشت اور ہمارا بدلتا ہوا زمانہ
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
دنیا کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتی۔ کبھی پہیہ ایجاد ہوا تو زندگی آسان ہوئی، کبھی بھاپ کا انجن آیا تو صنعتوں نے انسان کی تقدیر بدل دی، اور کبھی بجلی نے راتوں کو دن کی چکاچوند میں بدل دیا۔ آج ہم ایک اور بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ یہ تبدیلی ڈیجیٹل معیشت ہے جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کر رہی ہے۔
یہ محض ترقی کا کوئی نیا عنوان نہیں بلکہ معاشی آزادی اور قومی وقار کا راستہ ہے۔ وہ قومیں جو اس حقیقت کو سمجھ چکی ہیں وہ نہ صرف عالمی تجارت میں آگے بڑھ رہی ہیں بلکہ اپنے لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں بھی پیدا کر رہی ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت نے دنیا کو ایک نئی رفتار دی ہے اور یہ رفتار کسی کا انتظار نہیں کرتی۔
پاکستان کا نوجوان آج ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس کے پاس قلم اور کاغذ سے زیادہ اہم چیز اس کا موبائل فون ہے۔ یہی موبائل اس کے لیے ایک عالمی دفتر بن چکا ہے۔ فری لانسنگ کے اعداد کے مطابق پاکستان دنیا کے نمایاں ترین ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان بغیر کسی بڑے سرمایہ کے صرف ہنر کی بنیاد پر روزگار کما رہے ہیں۔ یہ حقیقت ملک کے لیے امید بھی ہے اور ذمہ داری بھی کہ ڈیجیٹل ماحول بہتر بنایا جائے۔
خواتین کے لیے بھی ڈیجیٹل معیشت ایک نئی دنیا کی مثل ہے۔ بہت سی خواتین جو گھر کی مصروفیات کے باعث عملی میدان میں نہیں جا سکتی تھیں وہ آج آن لائن کاروبار چلا رہی ہیں۔ کبھی کپڑے بیچ رہی ہیں، کبھی گفٹ باکس تیار کر رہی ہیں، کبھی سوشل میڈیا مینجمنٹ کر رہی ہیں اور کبھی آن لائن ٹیوشن دے رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ان گھروں میں ہو رہا ہے جہاں کل تک معاشی سرگرمی کا تصور بھی نہیں تھا۔
دیہی علاقوں کے لوگ خاص طور پر اس تبدیلی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایک چھوٹے سے گاؤں کا لڑکا جب موبائل کے ذریعے گرافک ڈیزائن سیکھ کر عالمی مارکیٹ میں کام حاصل کرتا ہے تو یہ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں رہتی بلکہ پورا خاندان اور پھر پورا علاقہ اس کے اثرات محسوس کرتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے شہروں اور دیہاتوں کے درمیان وہ فاصلہ مٹا دیا ہے جو برسوں سے موجود تھا۔
ڈیجیٹل معیشت کی ایک بڑی خوبی شفافیت ہے۔ نقدی کے لین دین میں کرپشن، غلط بیانی اور کئی مشکلات جنم لیتی ہیں مگر جب ادائیگیاں ڈیجیٹل ہوں تو معاملات تیزی سے مکمل ہوتے ہیں۔ حکومت کو بھی اپنی ریونیو کلیکشن میں بہتری لانے کا موقع ملتا ہے۔ ٹیکس چوری کم ہوتی ہے اور بے جا اخراجات پر نظر رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔
تعلیم کے میدان میں ڈیجیٹل دور نے نئی راہیں کھول دی ہیں۔ آج ایک طالب علم اپنے گھر میں بیٹھ کر دنیا کے بہترین اساتذہ سے علم حاصل کر سکتا ہے۔ اب کامیابی اس طالب علم کی ہے جو محنت اور ڈیجیٹل ہنر کا ساتھ ملائے۔ محض ڈگری کا دور گزر چکا ہے اور ہنر کا دور شروع ہو چکا ہے۔ جو نوجوان اس حقیقت کو جتنی جلدی سمجھ لیں گے وہ اتنی ہی جلدی آگے بڑھیں گے۔
حکومتی ادارے بھی ڈیجیٹل بن رہے ہیں۔ شناختی کارڈ کی تصدیق ہو یا آن لائن بینکنگ، ٹیکس فائلنگ ہو یا ہسپتالوں کے ریکارڈ کی ترتیب، ہر عمل جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیز ہو رہا ہے۔ عوام کے کام پہلے کی نسبت آسان بھی ہوئے اور موثر بھی۔ اس سے حکومت پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور بدعنوانی میں کمی آتی ہے۔
ڈیجیٹل معیشت سرمایہ کاری کو بھی اپنی جانب کھینچتی ہے۔ دنیا بھر کی کمپنیاں ان ممالک کا رخ کرتی ہیں جہاں ٹیکنالوجی کا ڈھانچہ مضبوط ہو۔ ہمارے ہاں اگر انٹرنیٹ کی فراہمی بہتر ہو، نوجوانوں کو جدید ہنر سکھائے جائیں، اور کاروبار میں آسانی پیدا کی جائے تو پاکستان بھی عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر سکتا ہے۔ اسٹارٹ اپ کلچر نے دنیا بھر میں اربوں کی سرمایہ کاری کھینچی ہے۔ ہمارے نوجوان بھی اسی سلسلے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
زرعی شعبہ بھی ڈیجیٹل تبدیلی سے محروم نہیں رہا۔ آج فصلوں کی نگرانی ڈیٹا کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ کسان موبائل ایپ کے ذریعے موسم کی پیش گوئی جانتا ہے اور مارکیٹ کے ریٹس گھر بیٹھے معلوم کر لیتا ہے۔ اس سے اسے بروقت فیصلے کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور محنت کے بہتر نتائج ملتے ہیں۔
تاہم ہماری مشکلات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی کم رفتار، جدید سہولتوں کی کمی، اور ڈیجیٹل تربیت کا فقدان وہ رکاوٹیں ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔ ڈیجیٹل معیشت صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ یہ اس وقت ہی مکمل ہو گی جب ملک کا ہر نوجوان اس سے فائدہ اٹھا سکے۔
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مستقبل مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، آٹومیشن اور بلاک چین جیسی ٹیکنالوجیوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ دنیا ان سمتوں میں آگے بڑھ رہی ہے اور یہ سفر نہ رکے گا اور نہ سست ہوگا۔ اگر ہم نے اپنی رفتار نہ بڑھائی تو ہم پیچھے رہ جائیں گے۔
آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ ڈیجیٹل معیشت کسی ایک شعبے کا انقلاب نہیں بلکہ پوری قوم کا امتحان ہے۔ یہ محنت، ہنر، تربیت اور ذمہ داری کا مجموعہ ہے۔ اگر ہم نے آج درست قدم اٹھا لیا تو آنے والی نسلیں ہمارے اس فیصلے پر فخر کریں گی۔ لیکن اگر ہم نے آنکھیں چرائیں تو دنیا ہمیں پچھاڑ کر آگے نکل جائے گی۔
ڈیجیٹل معیشت اب ایک ضرورت نہیں بلکہ ہماری قومی بقا کی ضمانت ہے۔ یہ راستہ وہی ہے جو ہمیں ترقی، استحکام اور خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اور یہ فیصلہ آج ہمیں اپنے مستقبل کے لیے کرنا ہے۔
یوسف صدیقی








