اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

آواز جرس ہے یا فغان ہے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

آواز جرس ہے یا فغان ہے
کس حال میں قافلہ رواں ہے

اٹھتے اٹھتے اٹھیں گے پردے
صدیوں کا غبار درمیاں ہے

کس کس سے بچائے کوئی دل کو
ہر گام پہ ایک مہرباں ہے

ہر چند زمیں زمیں ہے لیکن
تم ساتھ چلو تو آسماں ہے

ضو صبح کی چھو رہی ہے دل کو
ہر چند کہ رات درمیاں ہے

ہم ہوں کہ ہو گرد راہ باقیؔ
منزل ہے اسی کی جو رواں ہے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button