آپ کا سلاماردو غزلیاتحسن فتحپوریشعر و شاعری

آ گیا ہے کوئی بام پر غالباً

ایک اردو غزل از حسن فتحپوری

آ گیا ہے کوئی بام پر غالباً
ہونے والی ہے غم کی سحر غالباً

دل کی بے چینیوں کو قرار آ گیا
آنے والا ہے کوئی ادھر غالباً

راکھ میں اب بھی باقی ہیں چنگاریاں
کوئی . جلتا رہا رات بھر غالباً

جب تپش دل تک آئی تو ایسا لگ
پھونک ڈالا خود اپنا ہی گھر غالباً

اب اسی کے لئے کوئی رکتا نہیں
زندگی ہے بہت مختصر غالباً

لاش پر یہ سمجھ کر وہ بیٹھ رہے
آج. سویا . ہوں. میں بے خبر غالباً

اے حسن یہ کہاں آپ تنہا چلے
کھو گیا ہے کہیں ہم سفر غالباً

حسن فتحپوری

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button