بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے
بچا ہے جو تجھ میں میرا حصہ نکالنا ہے
یہ روح برسوں سے دفن ہے تم مدد کرو گے
بدن کے ملبے سے اس کو زندہ نکالنا ہے
نظر میں رکھنا کہیں کوئی غم شناس گاہک
مجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے
نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے
یہ تیس برسوں سے کچھ برس پیچھے چل رہی ہے
مجھے گھڑی کا خراب پرزہ نکالنا ہے
خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوں
جو کٹ گیا اس شجر کا شجرہ نکالنا ہے
میں ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلم کار
مجھے کہانی میں ڈال غصہ نکالنا ہے
عُمیــرؔ نجــمـی









جی
حان اب چلا گیا ہے تیرے شہر سے
حان اب چلا گیا ہے ترے شہر سے
دل کا سکون بھی رہ گیا اس شہر میں
حان نے چھوڑ دیا ہے ترے بعد یہ نگر
آخر تھا ہی کیا ترے سوا اس شہر میں
ترے بغیر یہ بستی مجھے ویران لگی
حان کا دل نہ لگا پھر کسی شہر میں
ایک تُو ہی تو سبب تھی مرے ٹھہرنے کا
اور کچھ بھی نہ تھا حان کے اس شہر میں
حان اب چلا گیا ہے ترے شہر سے
حان کا کیا تھا تیرے سوا اس شہر میں