- Advertisement -

آپ ہیں دور کہ ہم دیکھتے ہیں

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

آپ ہیں دور کہ ہم دیکھتے ہیں
چل کے دو چار قدم دیکھتے ہیں

اپنی آواز پہ رحم آتا ہے
اس بلندی پہ ستم دیکھتے ہیں

ہم سفر کیسے کہ ہم مڑ مڑ کے
اپنے ہی نقش قدم دیکھتے ہیں

زلزلہ کوئی ادھر سے گزرا
تیری دیوار میں خم دیکھتے ہیں

قافلے شوق حرم سے گزرے
اوج پر بخت صنم دیکھتے ہیں

زندگی جنتی بلند اڑتی ہے
درد ہم اتنا ہی کم دیکھتے ہیں

جب کسی غم کا سوال آتا ہے
صورت اہل کرم دیکھتے ہیں

ریگ ساحل ہے مقدر اپنا
کیا ہر اک موج میں ہم دیکھتے ہیں

کتنا خوں اپنا جلا کر باقیؔ
صورت نان و درم دیکھتے ہیں

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل