آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریناصر ملک

اختیار

ایک اردو غزل از ناصر ملک

میں نے دریا سے سمٹنے کی ادا سیکھی ہے
اپنی آنکھوں میں چھپا لو یا بہا دو مجھ کو
میں نے مہتاب سے مانگی ہیں درخشاں کرنیں
اپنے ہونٹوں کے جزیروں پہ سجا دو مجھ کو
میں سرکتے ہوئے ٹیلے پہ کھڑا ہوں اَب بھی
تیز جھونکے کی طرح آ کے اُڑا دو مجھ کو
کچی پنسل سے مجھے وقت نے لکھا ہے ہوا پر
تم میرا غم نہ کرو، آؤ، مٹا دو مجھ کو
میرے کشکول سے پھوٹے گا تعفن صدیوں
تم بہادر ہو تو مٹی میں دبا دو مجھ کو

ناصر ملک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button