اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

نہ مے بدلی نہ مے کے جام بدلے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

نہ مے بدلی نہ مے کے جام بدلے
جہاں نے میکدوں کے نام بدلے

وہی گلشن، وہی گلشن کے انداز
فقط صیاد بدلے، دام بدلے

جو ہم بدلے تو کوئی بھی نہ بدلا
جو تم بدلے تو صبح و شام بدلے

بدلنے کو ہیں میخواروں کی نظریں
بلا سے رُخ نہ دور جام بدلے

فضائے زیست باقیؔ خاک بدلی
نہ دل بدلا نہ دل کے کام بدلے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button