اردو نظمپروین شاکرشعر و شاعری

خود کلامی

پروین شاکر کی ایک اردو نظم

خود کلامی

یوں لگتا ہے
جیسے میرے گرد و پیش کے لوگ
اک اور ہی بولی بولتے ہیں
وہ ویو لنتھ
جس پر میرا اور ان کا رابطہ قائم تھا
کسی اور کرّے میں چلی گئی ہے
یا میری لغت متروک ہوئی
مرے لفظ مجھے جس رستے پر لے جاتے ہیں
ان کی فرہنگ جدا ہے
میں لفظوں کی تقدیس کی خاطر چپ ہوں
اور میری ساری گفتگو
دیوار سے یا تنہائی سے اپنے سائے سے ممکن ہے
مجھے ڈر اُس پل سے لگتا ہے
جب خود میں سکڑتے سکڑتے
میں اپنے آپ سے باتیں کرنے والی
رابطہ رکھنے والی
فریکونسی بھی بھلا دونگی
اور اک دن
مے ڈے مے ڈے کرتی رہ جاؤں گی

پروین شاکر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button