اردو غزلیاتشعر و شاعریناہید ورک

جسم و جاں کے زنداں میں روشنی کی خواہش کی

ناہید ورک کی اردو غزل

جسم و جاں کے زنداں میں روشنی کی خواہش کی
ہم بھی کیسے ناداں تھے کس خوشی کی خواہش کی
ہر طرف سکوں سا ہے دل ہے بے سکوں لیکن
ہم نے کب بھلا ایسی بے کلی کی خواہش کی
بد گمانیاں جس کے دل پہ چھائی ہیں ہر دم
ہم نے کیوں بھلا اُس سے دوستی کی خواہش کی
تم نے کیوں جدائی کو لکھ دیا مقدّر میں
ہم نے کب تمہارے بن زندگی کی خواہش کی
کیسے تجھ کو سمجھاؤں دل نے کیوں مرے ناہید
ڈوبتے ستارے سے روشنی کی خواہش کی

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button