اردو نظمشعر و شاعریشکیب جلالی

اِندمال

شکیب جلالی کی ایک اردو نظم

شام کی سیڑھیاں کتنی کرنوں کا مقتل بنیں

بادِمسموم نے توڑ کر کتنے پتّے سپردِ خزاں کر دیے

بہہ کے مشکیزہِ اَبر سے کتنی بوندیں زمیں کی غذا بن گئیں

غیر ممکن تھا ان کا شمار

تھک گئیں گننے والے ہر اک ہاتھ کی اُنگلیاں

’’ان گنت‘ ‘ کہہ کے آگے بڑھا وقت کاکارواں

ان گنت تھے مرے زخمِ دل

ٹوٹی کرنوں ‘ بکھرتے ہوئے زرد پتّوں ‘ برستی ہوئی بوندیوں کی طرح

اور مرہم بھی ناپَید تھا

لیکن اس روز دیکھا جو اک طفلِ نوزائیدہ کا خندہِ زیرِلَب

زخمِ دل مُندمل ہو گئے سب کے سب!

شکیب جلالی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button